Loading...
لاگ ان

غم و آہ و نالوں سے

سحر ، کنور مہندر سنگھ بیدی


نغمۂ سحر

غم و آہ و نالوں سے فرصت نہیں ہے
محبت ہے یہ خوابِ غفلت نہیں ہے

وہ حالت پہ میری گراتے ہیں آنسو
یہ قطرے مرے دل کی قیمت نہیں ہیں

فلک پر بہت ماہ پارے ہیں لیکن
ہماری نگاہوں کو فرصت نہیں ہے

غمِ دوش مجھ کو نہ ہے فکرِ فردا
مجھے آگہی کی ضروت نہیں ہے

اگر دید ہوتی رہے گاہے گاہے
تو ہے ہجر راحت مصیبت نہیں ہے

جو دینا ہے دے، بے طلب اے خدایا
گدا ہوں گداؤں کی فطرت نہیں ہے

گناہوں پہ نادم ہوں لیکن خدایا
بتا کیا ترے پاس رحمت نہیں ہے

گلہ ہے ہمیں اپنی بد قسمتی سے
زمانے سے ہم کو شکایت نہیں ہے

کبھی تھا یہی غم ، کہ غم لگ چُکا ہے
اور اب غم یہ ہے ، غم کی فرصت نہیں ہے

سحر چھوڑ بھی یہ فرسُردہ حکایت
مجھے اب کسی سے محبت نہیں ہے

حوالہ جات: "1942ء کی منتخب غزلیں" مرتب. آغا سرخوش قزلباش. دلی



Keyboard