Loading...
لاگ ان

دل بھی لہو لہو ہوا

میاں سعید


غزل

دِل بھی لہو لہو ہوا ضبط بھی بے قرار ہے
تیرا ہی انتظار تھا تیرا ہی انتظار ہے

آتشِ لب کے رنگ ہیں آپ کے جسمِ ناز میں
قوسِ قزح کے فیض سے باغ میں اِک بہار ہے

جانے نشہ وہ کونسا آپ کو دیکھ کر ہوا
آپ کی چشمِ مست کا آج تلک خمار ہے

ملنا ترا تری رضا تو نہ ملے کروں میں کیا
تجھ پہ کب اختیار تھا تجھ پہ کب اختیار ہے

آنکھ تو دیکھتی رہی روح نے چُھو لیا اُسے
آنکھ تو بے قرار تھی روح بھی بے قرار ہے

آپ کی بے رخی سے بھی کوئی گلہ مجھے نہیں
جان چکا ہے دل یہی آپ کو مجھ سے پیار ہے

ہم نے سعید خواب میں دیکھ لیا تھا کل اُسے
خواب کا اعتبار کیا نیند کا اعتبار ہے


تبصرہ

No Comments Posted
Log in to post comments.
Keyboard