Loading...
لاگ ان

مہ جبینوں سے نبھائے رکھنا

میاں سعید


غزل

مہ جبینوں سے نبھائے رکھنا
اُن کو آنکھوں میں بسائے رکھنا

مسند ِ گُل کی طرح ہے دل بھی
یاں حسینوں کو بٹھائے رکھنا

اشک بار آنکھ کو کرنا اور پھر
فصل خوابوں کی اُگائے رکھنا

دھڑکنیں دل کی صدا ہیں اِن کو
نبض ِ اُلفت سے ملائے رکھنا

دل سے اٹھتے ہوئے شعلوں کو بھی
گریۂ غم سے بجھائے رکھنا

مبتلا عشق میں رکھنا خود کو
لاش پھر اپنی اُٹھائے رکھنا

اُس کی عادت ہے میاں سب سے الگ
آنکھ خود سے بھی چرائے رکھنا


تبصرہ

عاطف ، عاطف جاوید عاطف ، عاطف جاوید

Tue, Jun 7th 2011, 01:15


واہ واہ

Log in to post comments.
Keyboard