Loading...
لاگ ان

وعدہ کہاں وفا ہوا

میاں سعید


غزل

وعدہ کہاں وفا ہوا
سارا نشۂ ہوا ہوا

راز کھلے حیات کے
غنچۂ دل جو وا ہوا

تیری نظر کا لمس تھا
درد کی جو دوا ہوا

دل کو قرار تجھ سے تھا
دل کا قرار کیا ہوا

غم ہی وفا کی راہ میں
راہ کی ابتدا ہوا

سینے میں ایک دل ہی تھا
اور وہ دل ترا ہوا

عشق میں کیا ملا میاں
حُسن بھی نارسا ہوا


تبصرہ

No Comments Posted
Log in to post comments.
Keyboard