Loading...
لاگ ان

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

ظفر ، بہادر شاہ


غزل

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

تیری آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی

عکس ِ رخسار نے کس لئے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہِ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی

کیا سبب تُو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار
خُو تری حور ِ شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی


تبصرہ

No Comments Posted
Log in to post comments.
Keyboard