Loading...
لاگ ان

سفر تمام کرے دن تو رات ہوتی ہے

انور شعور


سفر تمام کرے دن تو رات ہوتی ہے
کسی کی موت،کسی کی حیات ہوتی ہے

زبان سے وہ کوئی اور بات کرتے ہیں
مگر مراد کوئی اور بات ہوتی ہے

متاع ِ جاں کی حفاظت نہ کیوں کرے ذی روح
یہی غریب کی کُل کائنات ہوتی ہے

جو شخص تم نہیں ہوتا،وہ آپ ہوتا ہے
جو چیز چھ نہیں ہوتی،وہ سات ہوتی ہے
وفا ہو ، پیار ہو ، ایثار ہو ، مروّت ہو
اِنھی صفات سے تشکیل ِ ذات ہوتی ہے

میں جی رہا ہوں کسی اور زندگی کے لیے
یہ زندگی تو بڑی بے ثبات ہوتی ہے

وہ ہاتھ تھامتے ہیں اور چھوڑ دیتے ہیں
گھڑی میں قید،گھڑی میں نجات ہوتی ہے

بہت ہوئے ہیں محبت کے تجربے لیکن
ہمیشہ کوئی نئی واردات ہوتی ہے

شعور کل کی کسی کو خبر نہیں ہوتی
حیات سلسلۂ حادثات ہوتی ہے


تبصرہ

No Comments Posted
Log in to post comments.
Keyboard